News

حسن پرستی و عشق مجازی کی تباہ کاریاں اور ان کا علاج

حسن پرستی و عشق مجازی کی تباہ کاریاں اور ان کا علاج

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ

عشقِ مجازی اور بدنگاہی جیسے افعال کی برائی کو قرآن و حدیث میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے لیکن شعرائے عشقِ مجاز حُسن پرستی اور شہوت پرستی کو جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں،مرد اور عورت کے درمیان عشق و محبت کے گناہ کو عبادت قرار دیتے ہیں۔ یہ ساری خرافات اللہ اور رسول کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہیں۔ شریعت نے شرم و حیا پر مبنی ایسے پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھی ہے جس کے ہر ہر فرد کا خواہ مرد ہو یا عورت کسی ناپاک فعل میں مبتلا ہونا تو درکنار اس کا تصور بھی محال ہے۔

شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس صدی کے مجددِ غضِ بصر تھے آپ نےاپنے رسالے ’’حسن پرستی اورعشقِ مجازی کی تباہ کاریاں اور اُن کا علاج‘‘ میں مرد اور عورت کے اختلاط سے وجود میں آنے والی ان تباہ کاریوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے انسانی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔ حضرتِ اقدس نے ان تباہ کاریوں کی وجوہات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ایسا مفصل اور جامع علاج بھی تجویز فرمایا ہے جس پر عمل کرنے سے نہ صرف عشق مجازی یعنی عذابِ الٰہی سے نجات مل جاتی ہے بلکہ پاکیزہزندگی اختیار کرنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا قرب خاص بھی عطا ہوتا ہے۔

Free WordPress Themes - Download High-quality Templates